2
ئی ٹلال الٹرآن ۳۴۴ سورة الا٭ لپ - ۴۴
رے ولا دائی تقانون بن جاۓ اورمفسل طربقہککار ہو۔۔ اس حوانے سے یں کے ساجھھ ہونے والے معاہر ےکی طرف اشار کر دیا جا ہے ۔ خصو۔آ اولوالعزم یوں س ےکہ دہ اسلائی فظقام کے قیا مکی ذمہ دای تو لکل اور ا تریک پ سے رہیں لوگوں کے اندرجلغ تک کاکام جار ی ریس اور ان اقوام میس اس دعو تکو جار ی رکیں ج نکی طرف ا نکو بیھاگیا ہے اکہ ہہ بات لوکوں کے خلاف ججت 6 کہ الناکک پغام پنیا تھا اور دہ اتی ضلاات و ہرایات کے زم دار ہی ںکئر اور ایھان کے زمہ وار ہیں کی وکنہ خقمبرو ںکی خغ کے بعد تو جت قمام ہو جاتی ہے ۔
رع سے نے پک وہر 0 از نا طر ے ئر عے وٌَِ اَحَذَتا من الَاْنَ ینان ون من و 5 اِبْلهِتِم 7م ے
لی َو ابی مَرَیَع وَاَكَدْتا ثئح اتا کيا لِعَتَلَ الضٰدقِْن عَنْ منقوف*ء اع للَصُيْنَ کا ایاگ
نو
ایر (اے نی؟) یادرکو ای عمد و پیا نکو جو ہم نے سب پضبروں سے لیا سے ' تم سے بھی اور تو حور ابرائیم اور موا اور می ان مریم ےبھی ۔سب سے ہم چن عیر لے پچ ہیں ۔ کہ ہچ وکوں سے (ان کا رب )ا نک جال کے بارے می سوا لکرے ' او رکافروں کے لے فو اس نے دردناک عخراب مسیاکر ہی رکھاے“_ ۰
ىہ وعدوفوج علیہ الام سے نےکر حضرت مجر صلی ایر علیہ لم تک مسسل ڈیا گیا۔ مہ داعد میثاقی ولا لام ہے اور سے واعداانت ہے ۔ ہر اپ مافل سے لا ربا او رآنے واٹ کو دیار-
ایا میں تمام جیوں کے بارے می ںکھاگیاکہ ہم نے ان سے میشاق لیا اود ال کے بعد قرآن اور نی صلی اللر علیہ وسلم سے خصوصی طور بر تھا ( مك مکیدکہ آپ خاتم یں ہیں لو رآ پکی دعوت عالی ہے ۔اں کے بعد اواوااعزم مرسولوں کے یا مکنرائے فو 'ابرائیم ؛مومٰ اور یب یم اسلا کا کر ہوا۔
اصحاب مشاقی کے کر کے بعد اب ہی جیا نکیاجا ا ےکہ دہ عمد تھاکیا او رکیسا تھا دوبہت پچفنے عدد تھا ٤بست بھارگی
عیرتھا۔
مَیعَاقًً لیا (۷۰:۳۳) پچ عمد۔اس میں لف میثاق کے لفودی ےکی طرف اشار ہے <افت میں میثاق ەل ہوںی ر یکو کتے ہیں ۔ استعارہ کے طور بر عیر کے لیے اسقوا لکیاگیا۔اں لف کے استعال سے آیک موی فو مکو جس مک کے رکھا نا مطلوب ہے پاکہ انسائی شور بھی طرح بج ےکم ہکلچخن اور اہم عید تھاج اس قد پڑنے بے عضبروں سے لیامگیاکہ وو وی وصو لکریں ؛ اس کی تفنٍکریس اور اس کے مطابق اسلائی ام ا مکریں اور نمابیت امانت اور اقامت کے سا ' ا لکی زمہ داریال بر داش تکرییں۔-
اسقل الصَدقین عَنْ صَذْھمٌ (۸:۳۳) اکہ الل چے لوگوں سے ا نکی سای کے بارے میں
ارہ غر ٢۱
ظلال الئرآن 27 ور٤ الا لاب - ۴٣
سوا لکرے تاور صاوقی ال انان ہی ںکیدکہ انسوں نے پکھا اور جے حقیر ےکو تو لکیا ان کے سواقمام دو مرے لوک جھوٹے ہی ںکیدکنہ ان کے عقائد با ہیں اور ا نکی بات باضل ہیں لن اتحی رکا خاص مغموم ہے ۔چوں سے سوال اییای ہوگاجس طرح ایک لاکن شاگر د سے استادلوگیں کے سان میس ياتقر عب میں ىہ پر چھتاہ ےککہ تم نے کت بر لیے او رکسے جوابت دیے اور یوں کامیالی حاص ل کی ۔ بے سو ا نکی عزت افزای کے لے اعطاضہ تمام لوگوں کے سان ہو گا کہ قام نے ول بھی ا نکی تفری فکریں ۔ ابی طرح یوم اممشرمیں الڈر صا دقین سے سوال ا نکی مر یم کے زیت ان
اب دوکمرے لوگ جنوں نے بائل نظریات اپائۓ اور جنضوں نے بجھوٹ پول ہونے حالاکنہ ان کے ماتے ال کائزات گابمت بوامنلہ پٹ یکیانگیافا٠ٹس میں یاانوں نے سچاکل ہکنا تھا یا بچھوا ان سے سوال ہ گا اور ان کے لیے مزا بھی عاضرہوگی لور دہ تا رکٹ ہوگی-
و اعد للکفرین عَذابا یما (۸:۳۳) ”اور کافروں کے لے ان نے دروہاک عزاب تارکر رکھا
ےگ ۔
۔۔۔0٥0ہةىص-
پارہ ہر١٢
ظلال الترآن ۲۲۴۸ سور) الاطزاپ - 7۴۳
ورس نر۱۸۹ ایک نظریں
اہ ات اور حا رات کے میران کر زار املای نمی تکی تکگیل ہو ری تی - ہرتے وع کے طورع ہوئے کے بعد اور ہرنۓ عادئے کے بعد ہہ مخصیت واج ہوتی جاقی تی اس کے خدوخال کھرکر سان آتے تھ ۔ اعت مل ان حخفیات سے تقکیل ارہی تھی جن نکی خماص لا میں میں ا نکی خاص اقرار حیات خی اور تام دو مرک سوسائٹیوں سے اس کا نگ ڈصنک پائکل لف تھا-
اس جماعت کے غلاف رو زکولی کو واقعہ پیٹی آنا اور ہہ واقعات جماعت کے لے بدافتہ بن جاتے اور ہے تن اں رح ہو تاجن طرح سونے کا فنہ““ ہوا ہے اس خے سے اصلی جو پراو رکھوٹ عبیدہ ہو جات ت ؛انمانو ںکی حقیقت اور ان کا اصل جو پرسانے آ جا تھا۔ اگ دور ہو جاتی تی اور الس سوناجداہو جاا تھا۔ یو اسلائی سوسائا سے لی قدریں تم ہو جاتی تی جن میں ملاوٹ ہوتی شی -
ان اتلا ول می تقر نکر نازل ہوا تھا یا داتعات وحادمات کے بعد الن پر رہ ہوا تھا اس تبھرے میں واقعات جائے جاتے ان پہ روشنی ڈالی جاتی اور ان کے نشیب د ڈراز جناے جات ۔بیوں ہریک کا موتف سان ۲]۔ خیرو شور اور یت و ار ار ےکی الا ہوتی اوران واتعا تکی روش یں لوکو ںکو پرایات دی نپا اور دہ پایات بھی طرحع الن؛ کی مھ یں آسجاتیں لوگ ان ہرایات سے لی طرح متائث ہوتے اور اتی اصلاعکرتے یوں اسلائی جماع تک ترعیت ہر ولنا کے بعد ہوکی رہتی اور پرحادٹے کے بعد اسے پرایات مق رپتیں۔ اسلا ی نظام حیات کے اہراف کے مطالق ال بداعت مل کی خصیت تی اور وہ الن تھروں سے ارات لیت ۔
یوں خمیں ہواکہ تام اظکام اور پرایات ایک ہی بار از لکر کے ملمانوں کے سساتے رکھ دیے گن ہوں اور پچ یکما گیا کہ جا الن ب ہگ لکرو۔ بکہ ىہ ہرایات اور ہہ قوائین واقعات کے بعد نازل ہوتے ر ہے '| زمائشیں آتیں ؛ فتہ آتے اور واتعات پیٹی آت ' ادھ سے دع ٢ جا یکیوکہ اللہ خال قکر یکو عم تھاکہ انسائی اخلا قکو صرف مرج ہی کے مات بچھی طرح نۓ سا میں الا اور ھی طرع پخ کیا جا سکناہے .۔ انسانی اخلا کی نوک پلک صرف کآزمانل اور واقیات و حادمما تکی شل میں درس تکی جا عق پے یی داتعات یتجریا تکی صورت میں کے وک می تجریات کے تیج میس بات دلو ںکیا کک ات جاتی سے اور اخصا ب گیا اس کے مطاب ق موک تکرنے گت ہیں مہ اخصاب پچھرال طرع جدیدردشل ا ہرکرتے ہیں جس طرح مع رکہ مار زارجی یا واقنات اور حاوات میں انسمان کافطری ردگل ہو ے دالاعواقات کو جب تن نازل ہو فدہ جا امہ یہ دق ہکیاے ۔اس کے تچ ہکیا حول ہیں اور اس میں ایک مسلمان کا اسلا بی ر دک لکیا جن چا - اس طرح اسلا بی شخصیت آ ز اٹ کی بٹی سے صاف و سجحریی ہوک پل کآتی اک آتی ' ٠ز مائ کی نیش اس کے الات جم سے پ رم یاکھوٹ ثکا لکر رکھ دیق اور اب اعلا م جس ساٹ میں پچاہتا ان حفیا تکو ژحال لیتا-
پارہ ر١۲
لی شال الترآن ۴۲۲۴ حور الاپ - ۴۴۳
بی تیگ جیب دور تھا جو لمانوں نے بھی صلی ایل علیہ وسل مکی قیاوت می ںگزارا۔ اس میں آسمانوں د زین کے فلابے لے ہوۓ تے۔ آسمان سے ایل زین کا براہو رات رابطہ تھا۔ تام واتعات اور قام مکالمات مس آسان سے برایت ؟ جای۔ ہزملمان رات اور دن یوں ڑھگ برک رہا ھاکہ الد دک را ہے من رہہ ۔ اك یکول امت باجمردن آ جائۓے ۔ ا ککاکو یکلہ“ ال ک یکو ح ریت بمہ اس کاکوی ارادہ زول وع کاسبب نہ بین جاے لکول کے ساس نا ہر شہ ہوجائۓ 'رسول ال کے پاسی تہ کے بارے می ںکوی تیعرو نہک جائے وبا پرلمان سو کنا تھاکہ دورب تال کے ساتھ براد رات ضنلک ہے ۔ آگر اس ےکوی معالمہ درپیش ہو ياکوئی کل درٹیٹ ہوتی تو دہ انتظاک را کہ ای کے بارے می ںکوقی فی موی ہرایت ؛کوںی فیصلہ اسان سے ؟ جائے اور اللر جا رے ہزات ور اے فلاں تم نے م ےکا ەتم نے بیو ںکھا؛ تم نے یوں سوا یہ نما برکیا اور سہ چا یو ںکر و یوں نکر و “اور ایا رزل انقیار کرو- بب لیک گب دورتھاکہ الہک ایک متین حم کسی ین مس کے بارے میں ؟ پتا۔ اور مہ عم چھراس کے لی بھی ہوا اور نام ایل زین کے لے بھی ہوا زشن کے زرے زرے کے لے ہوا پپدری زین کے لے ہی ہوتا۔
ححیقت ہہ ہ ےکہ ىہ جیب دور تھا۔ آرج جب انسمان ال کے بارے میں سوچتاسۓے ال کے واقعات اور عا را تکو دبا ہے 'یڑھتا ہے ' بڑھاا سے تو دہ بھی طرح ایک نقفہ زہن میں لا سکتا سے “ایک منظردکچھ کنا ےک کس قد جیب زورتانے-
ٹین اللہ توائی نے مسلافو ںکی تزبیت صرف اس شعور کے زریجہ ہی شی ںکی کہ ا نکی شخصی تکو پت دکر ویاجاۓے لہ ا نک مل یگجرنوں سےگزارآگمیا۔ ا نکو | ز اننس میں بت کیامگیاجنس میں ان کا نقصان بھی ہوا لن ذائسرے بحت ہوے اور ہے سب امور اٹ رک یگبری عمتوں کے مطابق سرانعام پاتے اک وککہ الد علیم دخمیرہے اور دہ اپٹی خلوقی کے بارے میں بھی رح جتا ے۔
یہ عم تکیا تی ؟ ہیں اس پر زراطویل غور وگ کر با چان ہاکہ ہم اسے معلو مک لیس 'بچمراس پرحوب رکری اور رہم زندگی کے واقعات 'آز انٹول پہ ال کی روش می خورکریں-
-۔-۔0 0٥ ۔۔۔
اں سیق میں تریک اسلائ یکو یی آنے والے ایک بڑے واق ہکی نشرک یی ہے ۔ اور اسلائی ار کے ا واتمہ میں جخاعت مہ کے لے ایک بڑبی | زمائش شی اورہہ وقت امت مسلہ پر بست بر اوت تھا۔ بڑی مکل دور سے تریک گزر ری تھی ۔ کین خزوۂ اقزاب کا دور بے نگ ہجرت کے پان یا چوتھ سال یں یی کلی مہ اس خی اشن وا یتیک کے لے آیک مت بدمی ؟ ذمائکش تھی ۔تریک اسلا یک تام اقداد اور تمام نطریات دا بر تھے ان آیات پیر مو رکرنے سے“ خمزدة ا زاب کے واتعہ کے پیٹ یکرنے سے 'اس کے اسلوب بیان سے 'لض واتقعات بر تجھرسے سے ۰ض لوگوںکی کوؤں سے ؛لعض افرارکی سوج سے ' اور بجض لوکوں کے قدشات سے اور پچھراس جنگ میں ساتے نے وی اقد ار سے ایی رع معلوم ہو جانا ےک اللد تھا لی قرآ نکر مم کے زرییہ امت مل کی ترمی تکس خوش اسلولی سے فرارے تھے -
جک ا زاب جیے الیم داتعہ بر قرآئ نکر مس انداز سے تر ےکرا ہے اور ام تک وس اندازے پرایات دیتاے - قرنی فدص کی تشرجع سے لہ ہم جچاتے ہی ںکہ اس واقعدکی پری یل ذرااختضار ےکپ میرۃ سے نخ لکر دی
پادہ غر ٢٢
ظلال الئرآن ات سور ال7زاآپ ۳٣
جائۓ ۔اہں سے ہم نقابی مطال کر نھیں م ےک انسان واقیا تکوکس سر جیا نکرتے ہیں اور اللہ تا یکی جب ے تریس ہوماے۔
مھ لن اساق نے اپتی ند کے ساتھ ایک جماعت سے نف لکیاہے .... جنگ خنرقی کے داقعات میں مہ ہے کچھ یودی جن میں سے سلام این ابو ا تی ری ' بسی لین اخطب رب لکنانہ ین ابد ایق ری ہورہ این تین ای اور او ماد واٹی تے اور ان کے ساتھھ یھ لوک بنوفضیٛلتھ لوک بنی وائل کے بھی تھے ۔ یی لوک تھ جنموں تنے رسول اد کے خلاف ففکر جع سے ىہ سب سے پل ہگھروں سے گے 'قرنیشی سے لے اور ا نکو دعوت د یک رسول مد کے غلاف جن ککرمس اور انموں ن ےکھاکہ ہم تماد امائھ ال وقت تک ہیں گے جب کک اس کو نمیاد سے عہ آکھاڑ دی ۔ قرنل نکیا لے علت بیو وا تم لوک پل کاب کے عاطین ہو اور میں معلوم ہ ےک ہمارے اور مجر صلی ایڈد علیہ سم کے درخیا نکیا اتلاف تب تم لوگ جا کہ اس کا دین اچھا ہے با ہارا۔ فو انسوں نےکھا ال کے رین سے تمارادین سچاے اور اس کے مقاٹے می خم زیادہ برح بی دہ لوگ ہیں جن کے بارے میں می آیات ات :
رر .وو نے
آلم تر إی الذينَ اُونوا تصیبا مَنْ التب یومنون بالحبّت وَالطَاغُرت َیقولو لین کفر وٴاهوٰلاء آھدی من الَذينَ امْوْا سَيلا )۱٥:٤( 2 عگیاتم نے ان لوکو ںکو میں دیکھا جنمیںکتاب کے علم یی تحت اکنا سے بد ان تکاخال دیدجت لور لات بانک ہیں اورکافروں کے متعلق کت ہی ںکہ ایھان لانے دالول سے قز بی زیاد ہی راستے یہ ہیں“ یماں سے ےکر یت
ہیں رہ
ام یحسدون الا سعلی ما اه الله مِنْفَضلهفََنْ ایت ال ابرعیم الکتب و الْحکمة وَاَينهِممُلکا عظیما )٥٥( فمنھم مٰن امن بە ومهم مُن صدعنة و کی بجھٹم سَیْرا(ہ٥)(؛ )نکیا دو روں سے اس لیے صدکرتے ہہ ںکہ الندنے یں اپنے ففل سے نواز وی ىہ بات ہے و انیس معلوم ہ ھکہ ہم نے قذ ابر امہ مکی اولا دک کاب اور حمت خطای اور تک لیم نشی ریا گر ان میں س ےکوی اس پر امان لاے او رکوی ال سے منہ مو ڑگیا اور مضہ موڑتے دالوں کے لیے تو جن مک پگ ول آگ ى کان ے“-
جب انموں نے قرلی یکوسے فی دیانز دوبمت خوش ہوئے اور جوشل میں آمے اور رسول لہ کے غلاف لڑن ےکی عائی بھری۔ یہ لوگ اب قرلیش کو چھو ڑگر خطغان کے پاس ھے جو قیں فغیلا نکی ضسل سے ہیں ۔ اتموں نے ا نک وی دعوت دبی کہ وو رت مجر صلی الد علیہ وسلم کے خلاف ٹیس انسوں نے ا نکو جا یاکہ سے خودبھی ساہھ دی گے اور ترییش بھی اھ ریں کے ۔ لیا غم لوگ ترلیٹی کے ساجھھ میٹ ککرو۔
چتانچ ریش تکا مہ لشگر ابو سغیان این حر بکی مریرائی میں ' مفغان اپنے سردارعییند این حم بن رز ای کے سا “ اور حارٹ ین عوف بی مردہ کے ساتھ اور مصعر ین امیدہ پنے تین تی اٹ کے سام گے
پارہ غر١۲
قلال القرآن 21 سور الا۶زاپ - ٣۳۴
جب رسول اللہ صلی ایل علیہ و مکو ان اش رکش یکی اطلاعات یسپ نے مد ینہ کے ار دگر وخند نکھودنا شروع کر دی۔ختد قکھورے میں رسول اللہ صلی الڈد علیہ وسلم نے بھی کا م کیا اور مسلمانوں نے ھی کا میا ۔ آپ نے بھی جانفٹالی سے کا مکیا اور لرانوں نے بھی خت جانفشالٰی سے کا مکیا۔۔ ال کام یں رسول اللراور لمانوں کے مقالہ میں بض منانقین نے نمایت ست روی سے کام لیا دوبہت چھوٹے موٹے ککاموں میں تک جاتے اور افیراز ن رعول“ کے سک جات و ہوگھرو لکو لہ جاتے اور رسول ای کو م بھی نہ ہوت۔ اور افو کی روش یہ ہوت یکہ ا کسی کا کول خردری کام پیش آنا و دہ رسؤل اث“ سے اجازت نےکر چل جانا او رکا مکر کے جلدی سے والین ۲ جانا اور مایت ہی ذوقی و شوقی سے کا کر ابی ہی لوگوں کے پارے می سی آآیت نازل جول :
ايْمْا المومنو8 بالله و رسوله یا3 | کانوامعەعلی'امر حَابعلمَ یلھب احٹی یستاذثوٰہ ان الذین یستاذثوتك اوائك الین یومٹون بالله و رسوله فَادا امو لاق خَانہمَٰادثلسٰ نت مم ز سَشرلُم الد ره لور ریم( )٦٦:٦ '؛مومن تو صلی یں دی میں جولراور ال کے رسول یہو ول سے ای اوج بی ابا کام کے موقعہ بر رسول کے ساتتھ ہوں تاس سے اجازت لیے اغیرنہ جانمیں ۔اے نی جو لوک بچھ سے اجازت ماگ نے میں وی الہ اوز رسولل کے مانے والے ہیں ۔پیں دہ اپ کی کام سے اجازت ناگیں 3 گے چاہو'اجازت رے دیاکرد۔اور ابیے لوکوں کے من میں الہ سے دعائۓ مفر تکیاکرد۔ القد خقور و رتیم ہے“ ا کے پعد اللہ نے الن لوگوں کے پارے می ںکھا جو اغیراجازت کے سک جاتے تے او رکام چو رٹ یکرت تے۔
نشار( شاو ال مول مک ماعانی تی ماق بل ار لا روس لواڈائیحڈں لنی بخالفئرۃ غی ا افئسی امن
عذاب الیم ١ )٦٦:٦ ٤( ملائوں !اپ درمیان رسول کے بلان ےکو پیش مم ایک دو مرے کاساجا ا2 کہ یھ الد ان لوگو کو خوب جادتا ہے جو تم جس اسیے ہی ںکہ ایک دو سر ےکی آڑ ےکر چچچہ سے کسک جاتے ہیں رسولی کے ع مکی غلاف ور ز یکرنے دلو ںکو معلوم ہو نا چاہےمکہ دہ نے میگ ففار نہ ہو جائیں یا ان بر در دنک عزاب لہ جائۓ“-
جب رسول اللم صلی اللہ علیہ لم خندق سے فارغ ہوے فو قرلیش حول 'کناشہ اور تمامہ کا لیک بدا شر طرابر لے کر یچ گئے۔ ىہ ام رومہ کے تع اسال پر انڑے اور عفان اور ان کے تع دو مر ےھ تال اعنہ کے پا زضباقی پر اتڑے ۔ اور رسول اللہ مکی اللہ علیہ یلم اور ملمان ین پرارکی راد می تھ ای ص کی پش تکو وس کی طرف
یادہ غر١٢
لی قظلال الترآن ۳۴۴۲ سور ٤ الاطزابپ - ۳٣۳
یہ اکر یہاں اترااور زاب اور ملمافوں کے اظکر کے درمیان خدق تی ۔پوں اور عورقا لک وم ماک وہ تلود 0 090 ۔۔۔0 0٥ ۔۔۔
الد کا رشن حی این ا خلب ھی اکب این اد تی سے لاہ صاحب تھے جموں نے بی قرب دکی طرف سے عم دکیا تا ان نے انی قو مکی طرف سے رسول الد صلی لیڈ علیہ ۱ل مکو نین دبا یکر ای تھی اور لن بر رسول ا سے عمد د پیا نکیا تھا۔ میکب این اد سے چتار اور اسے رسول اللہ صلی لیلد علیہ سم کے غلاف ؟ ماد وکرب رہا۔ اسے دھوکی رین کے لے بار باد چگر لگا رہا۔ یہاں ک ککہ اس نے ایں سےکبھی دعدہ لے لیاکہ اکز قرلیش اور عفان وایں ہوگے اور جھ بر عملہ ور نہ ہو پر ہیں تھمارے ساتھ تمارے تلع میں رہوں گا ]کہ جھے بھی دہ بات نہ کچ جائے جو کے پچ ۔ ان نین دانیوں ی کنب این امد نے حضور آگرم* سے کے ہوۓ عی رکو ٹڑ ویا اور اں کے اور رسول ال کے درمیان جو عمد تھا ٴا سے برا وت کا اظما رگ ریا-
اس بر ملمافو کی مشکلات میں اضافہ گیا ادر وف د ہراس بھی لگیا۔اب اوبر ےکبھی شی تمل ہک ور ہوگیا اور یچ سے بھی ۔ ملمانوں نے برجم کے خیالات دل بی دوڑانے شرو عکر دج حعض منافقین کا نفاق بھی نظاپرہوتا شروع ہوگیا۔آیک فیس مسب این قسیر نی عمراین عوف تل کے فرد سے می کت سناگیال رہم سے بہ وع ےرت ےکلہ قع وکس ری کے زان کھامیں کے اور آج ہماری عالت ىہ ہہک مم س ےکوی بے خوف ہوکر ققاۓ عات کے لیے تمیں جا کا “اور قیلہ نی عارظے کے ایک نس اوس لین قیلی کے اد مضور ہمار ےگھر خی رحفوظ ہیں اور نے بات انسوں نے اپٹی قوم کے ساٹ ةکی آپ نہیں اجبازت دے دی لک ہم لوگ اپ ےگھرو ںکو لہ چائی کوک مار گھب ینہ سے با ہیں“
رسول الٹ ھی ڈزنے رسے اور مرن بھی تقر ما لیک ماو کک بڑے رہ جنگ صرف مردں اور حماصرے تک یرد ربی ۔جب لوگو کی مللات میں اضافہ ہوگیاتے مو ر٤نے یک وذر عیمنہ بن صن اور حارث لین عو فکی طرف گیا ے روتوں خغان کے لیڈ ر تھے ا نکو سہ ی کش ک کہ جم عدی نک کرو کا ۳ا اہ اوگریں گے ال شرط4ھ یہ مم ول لپنے آدمیو ںکو ل ےکر وایں ہو جاؤ۔ گی کے بزاکرات ہویۓ ' ایک معاہرے کا ود بھی تار ہ وگیا- شارت اور جا ھی نہ ہوۓے تے جب مضورانے و ناکرا پاے فو آپ نے سعد این معاز رکی او اور معد ان عبادہ رس نر یکو بای اور لن کے سان اس معاہرے کا تک کیا اور مشور و طل بکیا۔ انمول ن ےکما و اکر ماگ آپ اس معاہدر ےکو بین دکرتے ہیں ےآ پکی عرش ہے" دسح لک ہیں ۔ یا اگر ال اعم سے وس ر کھوں پر او راگر ہے بات آپ جمارے مفاری کر ن چاے ہیں فو جامیں ۔حضورکنے فربااحش مہ عرف تمماری اط رک نا چارتا ہوں۔ میں لے اس یکر ربا ہو ل کہ قام عرب ایک م مان سے تمارتتحلاف مدان از یکر رہے ہیں اور برطرف سے تمارے اوہ ٹوٹ پڑے ہیں ۔فو بی نے سو چاکہ ال نکی قیت میں سھگ یکر دوں؟“۔ اس پر سعد ین معاز نے فربایا ہم اور سے لوگ سب شرک پر تھے ۔ اور جو لکی بندگ یکرت تھ تہ انرک بندگ کرت تھ اور نہ ا رکو پپننے تھے مہ لوگ چم نے جو رکا آیک دانہ بھی نہ نے کت سے الا مہکہ بییہ خریرتے یا اطور ممائن توازی کے ہم ا نک وکھطاتے ۔۔ اب چیہ الد نے میں
پارہ ب۲۱
ثی غلال الٹرآن ۴۰۳۴ عور٤ الاابپ:- ۳۳
اسلام کے زرییہ عزت ججئی ہے اور ہمیں ہرایت دی ہے او رآپ کے ذرییہ میں اعزاز ریا سے لوکیا اب ہم ا نکو اپنا ول دے دی ہیں اس رعای تکی ضردرت شی ہے ۔ہمارے اور ان کے درمیان فیصل ہجو اکر ےگی فو حضو نے فرایا جو آ پکی مرضی ہو۔سعد این معازنے وہ مو دو لیا اور انل کے اندر جو یھ تکھا تھا “ھٹا دیا۔ ال ن ےکم وہ ہمارے خلاف ج پک نا چاو ںکریں- رسول ایر صلی الہ علیہ سم اور ران نمایت خوف اور شر تک عالت یں رہے کک وکمہ رشن نے ہرطرف سےگیر رکھا تھا اور ا لک قوت زیادہ شی ۔ یو دیوں نے الن کے سا معاہہ وکر لیا تھاکہ دہ خبرک یبجوںیل دی گے ہگ وہ ای مموقحہ پہ ال نکی ملدادکریں (ترزِ ی )۔ حفرت ام سل تی ہی کہ می حضورکے سا کی شثرت او ؾخوف کے مقامات پہھ ری ہوں۔غزدہ مرببع خی راحد یب کہ ' تین ان یں ےکی کہ حضورآنے توکاوٹ موس می کی نہ زیادتائف ہویۓ ؛یس قرر مکاوٹ اور خوف خندق میں تھا۔بنی قریظہ عورفول اور بیو کے قر عیب تھے ۔ب ریم ساری رات پرہ ہو تھا ہم مسلرانوں مارک می کک سن رہے یسا م کک ابٹرنے خو دیو دا کوولی ںکر دیا- 0٥0--- ۔۔ے اک ام واقعہ سے ہواکہ ایک شس خیم این سحودلین عاعر خطغانی رسول الل کے اس آیا۔اسں تےکھارسول خد میس ملمان ہو چا ہوں لیکن میربی قو مکو میرے اسلام کاپ نیس ۔آپ جو شدمت میرے پردکر ری 'اس وش تکر گا نہوں : حضورآنے فرمباا” ہم میس آپ داعد؟دبی ہیں فونس طرعح ہو گے 'لوگو ںکو ہمارے خلاف جن گکرنے سے روگ لی ںکیوککہ بتک ایک ش می ال ہو ہے ای نے ایک کی کارروال یکی جس کی وجہ سے الن اتاپ اور بو قریظہ کے درمیان ا رشحم ہ گیا ۔ ا کی تقصیدا کپ سیرت میں مفصلا موجو دہیں۔۔ ار نے از اب کے اند ربھی بد دی پدآکر دی اور لیک ایا وفان یادد پاراں بھیاکہ سردیو ںکی شدید ھنڑی رات میں ان کے نی ےآکھٹ گے ا نکی پانڈیاں ال ٹگییں اور چو سے بجھ گئے۔--۔ جب رسول اید صلی ان علیہ وسلم تک ان کے اخلافات پچ اور ا نکی اجشاعیت شتم ہوگئی ق اس آفخری رات کے عالات معلو مكکرنے کے لیے حضورنے حخرت موزیقہ لن الیم نکو جییا-۔ مج لین اسحاتی نے روای تکی ہ ےک میرے ساتے زی لن رادان مج ای نکب تقرتقی تے روا کی ہے ”لیک کوئی باشنرے نے طرت عزیقہ ین یمان سےکما :ابد عمبدالہ ا تم نے رسول بن رگوہویکھا ہے اور آپ کے ساتھ صحب تک ہے وا ن ےکھا ال پنچچاہیں نے دیکھا اور محب تکی ۔ تق پچ رت مکیاکرتے تھے ؟ خداکی عم ہم بست دوج دکرتے تھ 3 اس ضس ن ےکماخد ای تم اکر ہس رسول اللڈ ہک پاتے تے اس پگز زین پہ لے نہ دیے لور ان گر دٹویں پہ اشمیں اٹھائۓ رت ۔اں پر عطرت مزیفہ نے ریا :کیج ہم نے حضور کے ساتھ بتک ”خنرقی میں حصہ لیا۔یوں ہواکہ حور“ نے رات کے ایک صے میں نماز پڑھی اور پھر ہماری جانب موجہ ہوے ۔کون ہے جر اھے اور چاکر معلو مر ےککہ مہ لو گکیاکہ رہے بن ۔چھردہ یں آ جا ۔ اس کے لیے رسول ال نے ولپ یکی شرط پکانی ۔ یں لیڈ سے سوا لکروں گا کہ ودوجنت می میراسانخی ہو“ ال تذرشدید وف تھا کول نہ اٹھا۔اس تر شدید بھوک شھ یک کی میں تاب نہ تھی اور سرد بھی شری تھی ۔ج بکوی نہ اٹھاقۃ جھہ رسول انڈرانے پکارا۔جب حضو “ ٠٠ ام لیا میرے لے ا بک چار ٤ کار ن تھا- آبایا ””زیفہ چاو ' ان لوگوں میں رائل ہو جاؤ' دیھو د ہک یاکرتے یں او کول بات کرو جب گک
پارہ بْر٢٢
قلال الترآن ۳۴۳۴٣ عور٤ الاپ - ۳۳
ہمارے پااس نہ آ جا ؤ'۔ حزیفہ کت ہیں می ںگیا۔ شر کے انرر داشل ہ گیا لوان اور ایر کے کر ان کے ساجھھ دو یھ کر رہے تے جوکر رہے تھے ۔ پانڑیاں ابا مہ رنہ عق تھیں ۔ ہاگ سک نہ عق می اب سفیا نکٹ اہو اعم دیالکہ پر خس اپنے ساتہ ٹیٹھ ہوۓ خخس کے بارے میں تل یکرے ۔میں نے پیل بی اپنے ساتتھ ٹیم ہوئۓ نخس سے پچ لیا کون ہو؟ تو اس نے ای فلاں این فلاں۔اں کے بعد ابو سفیان ت ےکم ایل قرلیشی اب یماں می نہیں رو بت ۔رکھوڑے اور اویٹٹ ہلاگ ہو گئ ۔ بنو قریظہ نے ہمارے ساھ وعدہ لال کہ دی اور ان کی جانب سے ہہیں دہ جواب ما سے ہم ناپندکرتے ہیں ' طوفان ال قدر ہے جو تم رھ رہے ہو ہنڈیا کیہ قرار نی ں تی ' اک نمیں بلق ٠ ےھ گے ۔ لناگو کرو میں فو گیا .مک کر دہ اٹھا۔ اپنے اون ٹکو اٹھایا۔ زوین ٹاگوں بک راہ وگیا اور ال کاعقال اں نے کھڑ ےکھڑ ےکھولا .گر جھے رسول اللہ صلی انڈد علیہ وسلم نے سی عم مہ دا ہوماک کو بات شہکر وجب کک میرے پا یہ جا تو میں آیک سی تیرمارکر اب وسفیان کا کام تما مک دبتا۔ عزیفنہ کت ہیں ک میں جب ولپیں چا نے دیکھاکہ مور“ کھڑے ہیں اور ایک اڑی چادر می نماز پھر نہیں جو سی ھی اور ضقشی شی ۔ بآ پ کی ازداج میس سے مک ھی- جب آپانے جھے دیکھانذ شہ اپ پاؤول کے نین جادری داخ لک لیا اور اد رکا ایک حصہ جھہ پر ڈال دیا۔ال کے بعد آپ نے رکو ںعکیا ادر حر وکیا اور یں چادر ہی میں لپٹا ربا جب آپ نے سلام بچچیرافجش نے آ پکو ری اطاع دی۔اب خطفان نے جب سناکہ لی نے م کا مکیا سے فو دوبھی اپے علاقو لکی طرف وللیں ہو گے -
قرن کے ان وص میں اشخاص کے نام نہیں لیے گے ۔ بلہ لوکوں کے نھونے ریے گے ہیں اور واتعا تک تلصیلات اور جزئیا تھی قرآن نے پچھو ڑ دی ہیں ۔ قرآئن نے وہ اقدار ور دار اور وہ عرزکل بیماں ریکار ڈسیے ہیں ہو نمونہ ہیں اور ہیشہ رے والے ہیں۔ووکر دار نوکسی واقعہ کے ساتتھ خصوص میں 'جوکی نیس کے ساتھہ خصوص مہیں۔ جو عالات کے مث جانے سے مض خمیں۔دوکر دار اور دہ قدری یہاں در عکر دی ہیں جو آیندہکی ضلوں کے گج نمو عبرت ہیں اور ہرگردہ کے لے معار مطلوب ہیں ۔ قرآا نکر خمام داقعات اور حعادحا تکواب کی دہراور تق کے ساتھ کک رب ہے اور جانا ےکہ وست قدر تک سکس مرملے بر طافوں کا معاون رہا۔ اس ممرکے کے ہر مملے میں یر اٹی نے انا کا مکیا اور قرآن نے ہر مل کانبصرہ ڈی لکیا۔
رآ نکریم نے مہ قعسہ ان لوگوں کے سائے د پرلیا۔جھ ال کے اندر موجودتے جو اس ک ےکر وار تھ ۔ لیکن تن کریم وہ اسباب بھی ان کے مات کحو لکر رکھ رجا سے جن کا انمیں علم نہ تھا۔ ان واتحات و عادجات کے وہ پہلو چو نروں سے اول تھے عالانمہ دہ ا لکھانی ک ےکر دار تھ ۔ قرآ نکر ٹس انسالٰی کے خیب و فرازک بھی بھو لکمۃ ان کے سان رکھ دیتا ہے ۔دہلوکوں کے خی رکے میلانات جانا ہے اور جانا کہ لوکوں کے دلوں کے اند رہکیاکیا خلبانات پیا ہو گے تھے۔
ان بانں کے علادہ انداز ہیا نکی خوبصورتی 'ال کارعب اور شوکت کلام ' با تکی قوت اور ترارت اور مان کے بارے میں مراجیہ انداز' اور ان کے نفاقی کے ہچ و ہاب اور ملمانو ںکی شخجاعت اور ایمان 'صبر اور اللہ پر پپرا پروسہ ' خر مہ سب بافیں قرآن ہمایت خوبصورتی کے سا ھقلم بن رک بے -
ہے وص قرآلی دراصل پریڑھنے وال کو گل پر آمادوکر تی ہیں ۔ ہہ صرف ان لوگو ںکو آمادہ نی ںکرتیں جن
یادہ ر٢۲
قلال الترآن ۲۲٤ عور٤ٗ الاپ -ْ ۴۴
لوگوں نے ىہ مع رکے اڑنے اور ان میں الن کا یاد کر دار رہا اور انمول تے سب پچھہ یکا مہ زماتہ بابعد کے تھام اروار اور معاشروں میں بھی یہ نصوص ابھارنے والی ہیں جب بھی تریک الا یکو ایے بی عالات سے واسلہ ینا سے جیساکہ ان لوگ ںکو ڑگر بمت زمانگزر پکا ہو ۔آگر بدید تزین مو معاشروں مج ں بھی اےے عالات پیٹ ہوں نو ہینہ ای طرح ىہ فص ایک موم نکو مفرک رکھی ہیں جس رح قرون فول میں انھوں نے فان نک مرک رکا
ان وص کوکچ طرح وی شنس مبھہ مکتاجنس کے لے یی هی عالات درڈپیٹل ہوں جس طرح ینگ اتذاب میں اس وت کے ملمانو ںکو درپیٹی ت ۔جب اےیے عالات ہوں پھران آیات سے پدلیات کے چجٹے پھوۓ ہیں اور اعلام کے لیے کا مکرنے والوں کے دل ان کے معائی کے لکل جاتے ہاب قرآان کے بکمات اور سی قوت اور اسلحہ بن جاقی ہیں او رکارکن وییے ہی مرکوں مج ںکود جانا ہے ۔پچھریآیات زندہ بیدا ' آگے بوھنے والے لوگ پی راک تی ہیں اور لوگ ایک معفقی تریک ےک ات ہیں ۔ قرآ نکر مکی بے دس عالم داقعہ یش بچلق پھرتی نف رآتی ہیں-..
ارب ےکہ قرآنکرم ضس عحلاوت اور علی ماد ثک یکتاب نی ہے مہ کام قذبھت جو چکا مہ لیک زجدگی ہے“ اچلق آکے بوعتی زندگی مق نے نے واقنات کے لیے نٹ خی ہرایات ہیں جب بھ یکول ول ان فصو س کو جے ان کے ہمقدم ہوکر لے ان بر ابیک کے تو ان نصوس کے اندر شید :فقوت کے مرج پلوٹ پت ہیں بی سے ا ں کا ب۷ا رزازکہ ال کے اندر خر وقوت کے زغائ یں-
یک انسان ایک آی تک ہرار بار پڑھتا سے 'پھردہ ارےیے موتف اور ایے عادٹے کا شکار ہوتا سے اور جب دای آی ت کو پڑھتاہے پوس دہ آیت نی ہوتی ہہ بائل ایک خ آیت بوقی ہے ىہ اسے دہ چھھ قلاتّی سے جو پل نہ بلاتی تی۔ ما ا نکی کجھ جس نہ تی یہ جرا نکن سوالات کاجواب درتے کی ہے ۔ ہہ یرہ لات ع لک دیق ے۔ صاف صاف راستہ اتی ہے ۔آیک صمت تی نکر وق ہے اود دہ ا و لک اس معالے میں عمزم بالجزم میں تبدی کر کے رکھ دیق سے اور پڑ ھن والےکو برا پراامینان و جاناے -
--۔9ہ0 ۔۔۔
پارہ نر٢٢
ظلال الثرآن ۲۲ سور الا خزاپ - ۲۳
درں مر۱۸۹ت رج ۲ اجب چاسہ 4
قر نکریم اں سور ة گا آغاز یو ک راہ ےککہ اے ئل ایان اس با تکو زایا کر دکہ ہہ طکر تمارے غلاف جم ہوۓ اور ا نکا ارادہ یہ اک جمہیں بی وین سے اکھا کر پھنک ری اڈ نے حض اپنےکرم سے اور اپقی ماس فو جو لک رد سے الکو نامراد دای ںکر دیا۔چتانچہ یی بی آیت میں واقعد کا٭زاج 'ال کا آناز اور ال کاانجام چا ریاگیا- تنعیلات سے بھی پیل ناک جس کک کو اللہ ان کے زین میں نشھان غاہے ہیں دہ بی رح جیٹہ جا دہ ا سکو با دکری ' اور الا کے زین میں مہ بات بیٹے جا ۓےکہ اللہ کا خثاء می ہے کہ تم لنٹ 'رسول' اور وت یک اتا کر و اس بر لوک لکر داد رکافرین اور منافقی نکی اطاعت کر ادر بی ہکہ ا ری دحوت اور ال کے نظیام بر جو لوگ لکرتے ہیں ' لنٹ ان کاحائی وحد وگار ہوا ہے مقالل ہکافرین اور منانقین کے
اتا ال امٹوا اذ کڑوا یشک اللہ علیکز اذ سا رو ٹن بایتتا
ھن رنھا زنک رترزکاکاع الا یت کتانق بے ڑللڈ
بثت رج انان لاے ہو'یا کول کے اصا نک ھ زی ای )اں نے خم کیا ہے ۔جب لفکر تم بر پٹ آے فو مم نے ان ب ایک خت آندھی جھجچ دی اور لی فوییں روا کی جو ت مک ون نہ کی تھیں۔ اڈ دہ سب ہتھ دک رہاتھا جو تم لوگ اس وقت کر رہ تھ“-
ییں اس اعالی آنغاز ہی میں مرک ہکا آغاز اور انجامقلم بن کہ دیاگیا۔ اور دہ عناصرکھی جا ری گے جو انس مھ رکے میں فوع دن رہے ۔ شی اعزاب کا جع ہوکر ٹوٹ پبڑ نا اور طوفان بادپراں اور دو سری ند ال افوذا جع کا آن جونظرنہ تی
تھیں' اور ایل رکی نصرت جو اڈ کے علم وح یر بنی میں اور وہ مس گرا یکر رہاتھا- اب ال کے پیر تیلات :
مالغ ین میک وین اَل رکز و إِڈ ات الكمَا2 > بلکت الَقَلؤبِ الْحَاجر وط یڈہ لزا ماك اتل
پادہ نر۲۱
ظلال الترآن 26 عور٤الااپ - ۳٣
الثیثوَیَ ءَدُلْزلوا زلرَال خَيِيَهَاك ٥ا یل الْیْکوْںَ رایت او يِهم رض کا وع وعلاً اك عَرَسُولة الا ِا عُرَوْما لاڈ قات و یھ ینم یئل س ریس متا چعْاٴ> کان رق یھر اك
اِقَ بْڑْگا عَورا+ وما ى یعخْرقڈلِیَ تُرِيْدُدْتَ الا فاماٹط
پعجب رشن ادپہ سے اور نچ سے تم پر چڑھ آآئے 'جب خوف کے مارے آکھھیں پچ راگئیں ' کیج من ہک و آ گے اور تم لوگ الل کے پارے میں طرع طرح کےمما نکرنے گے ' اس دت اییان لانے والے غوب آ زماۓ گے اور برک مر با مارے گھئے۔
یارکرو دو دقت جب منانقین اور وو سب لوگ جن کے ولول میں روگ تھا'صاف صا کہ رہے ت ےک الد اور ال کے رسول نے جو ودے ہم سے سے تھے ' دہ فر یب کے سواپچھھ نہ تھے ۔جب ان میں سے ای کگگر وہ ن ےکھ اکم لے یرب کے لوگو' تے لے اب ٹھرنے کاکوی موقعہ نہیں ہے ؛پلٹ چاو“
چب ان کا الیک فرب سیک کر بی“ سے رخست طل بک ر ہا تھاکہ ہار ےگ رخارے میں ہیں 'عالاکہ وو خظطرے میں مہ تے ' دراصل وہ (ھازنگ سے) بھاننا جاتے تے۔
می دہ ہولناک صورت عالی ہے جس نے مین کو ہلاکر رکھ دباتھا۔ پ رفس خوف او رکرب میں جلا تھا- اں صورت حال سےکوٹی تیک نس بھی خیر اث نہ تھا۔ یش اور اس کے حوالی و موا نی خلذان اور ان کے زی ا قپال ' اور یہودیاں بنی فربظہ برطرف سے اٹھھ آئۓے تے اوپر سے بھی اور نچ سے بھی ۔ابیے حالات تک ان کا خوف آیک دل اور دو مرے زل میں جدانہ تھا۔ اخلاف جو تھا دو ررگل میں تھا۔ الہ کے بارے میں لقن میں اختلاف تھا۔ طرزگل ؛اقزار' اسباب کے نصور اور تا کے نمور میں اخلاف تھا۔ بی وجہ کہ ىہ ایگ ب گی رآز مان شی اور ایں نے مومین اور منانقین میں لکل بدا کر دگیاس
آآج ہم جب اپے الات کا جائزہ لیے ہیں فو ہم ای مونف م سکھٹرے ہیں۔دبی حالات ہیں ' دحی باثرات ہیں وہی خلجاعات ہیں 'دىی جرکات ہیں اور ان نحصوص کے شیٹے کے اندر بئیں اپنے چرے صاف صاف نظ رآتے ہیں
ہم دیھتے ہیں اور سے مطظ ہیں صاف صاف نظ رآناے-
اذحاء وکم من موم ومن اسقل مْکم )٠١٠٣٣( د جب رشن اور ے اور یچ سے تم چڑ آے“۔اور اس کے بعد لوگوں پر اں موقف کے اثرات
و ا زاغت الابصار و بلعغت القْلُوْبُ الْحتَاجر )۱١ :۳٣( ”جب خرف ے بارے ککھییں چھرائئیں اور کیج من کو نے گے“ مہ ایک ہمایت بی کل تقمویہ سے اس شف کی جھ انتالیٰ جگی ' خرف اور ۸
پارہ بر٢
نی ظلال الترآن 22 عور٤ الاطزاب - ۴۴
کرب میں جا ہو۔ال تو می چر ےکی عات فور ولو کی ھت دوثو ںکونوھااگیا ے:-
ےر روےنے
و مظن بالة انان( )۱١ :۴ ٣ ”اور تمللے بارے میں طرح طرح کہا نکرنے گے “۔ ان گمانو ںکیکوئی تل یں د یگ ا نکنل چو زکرظام حالات افطراب 'قام بات اور ام برے اصاما تک اس می شال لکر دیاگیا ہے ۔ خللف دلوں می مرو نکی تفصیل خللف ہوگی-
اب زراال خوفاک صورت عالا تکؤ می رکھولا جانا ہے اود انی کے خدوالل اور ال کی ح رکا تکو ہائے لایا
جااے۔
ُتَالك ابتلی الموْسُونَ 7 و زْرلوْا زرل سيٰدًا :۳٣( ۱۱) ”اس وقت اممان لاۓ والے غوب ٢ زا ۓگ ری طح بلامارے گے“ دہ خوف جو ال ایا نک پل مارا سے * لازم کہ وومت ی یر اور ہولناک ہو گا۔
جھ ان ملمہ وخیرونے روای تک یکہ خندق بش ہعاری رات بھی ون ہوت تھا کہ ملین نے اپے لیے باری مقرر کر دکھی تی ۔ کیک دن ابوسغیان این حرب اپنے ساتیوں کے ساتھ ینک کے لیے نا لیک دن خاللد این ولید اپ ساتھیوں سمیت آنا' اور یک ون عرد این عاص آ لیک دن مسر ہ این ابد وحب آنا اور ایک ون تکرمہ این الوجمل کا او ایک دن ضرار لن لیب ۔ بیمال ک ککہ ممیت بت بڑ گی اور لوکوں کے انذر شد ید خوف بی لگیا-۔
مرن بی نے اپ کتاب اتاغ الاسا بی ملمانوں کے عا لکی قصو ےکٹی بیو کی سے مین نے می کے کے الک حم لہکیااور تضورگکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاتیو ںکو تا ریا۔ اس دن رات کے ایک صے کک لڑالی ری اور رسول اث اور مومین میں سےکول بھی اپئی چہ سے بل نہ سکا۔ تضور“ رر عصر'مغخرب اور شا کی نماز نہ پڑھ
۔ آپ کے سای می کنے گے رسو ل؟خداجئم نے نماز نی پڑھی اس پر رسول "الد نے فربایا دای میں نے بھی
نماز نی پڑھی ۔ یمان ک ککہ الد نے مرک نکو ہلا دیا۔ دوٹوں فرتی اپنے اپنے ٹھکانوں پر لے گے ۔اسیز این خبرخرتی کےکنارے پر دو سو آ می کو ےک رکٹرے ہوئے ' خالد فن وی دکی مرکر وی میں مشرکین نے جم کر دیا'مبہ اچک ملہ کر نا جاچے تھے ۔ تھو ڑی دی امو نے مقال ہکیا۔ وی نے طفیل این نحران ؛ این تضااناری سل یکو ایک یزے کے سان مارا۔اسے ای طر حت کرو یاہشن طرح اعدم حفزت حزہک وق کیا تھا اس ون حضو رر مآنے فربایاپدسٹرکوں نے بمیں درمیالی نماز 'نمازخصر سے مشغول رکھا ال الن کے دلول اور پیا یکو آگ سے پھررے“-
یوں بواکہ ملمانوں کے دو رت را تکو لے دہ آپیں میں اھ پڑ ےک یکو علم نہ تھاکہ دہ آپیں میں لڑرے ہیں۔ پرکیک کاخیال تھاکہ ہم رشن سے لڑ رہ ہیں۔ان کے درمیا نبھی تل ہہوۓ اور بجض لوگ زشی ہوئئے ۔ ای کے بعد انسوں نے اسلائی شعار سے پکارا۔کو ڈور ڑتھا- ۱
(حم لااینصرون) چانچہ دورک ے ۔ایں پر رسول الل “نے فرایا ” تمارازتی ہو اللہ کے لیے ہے اور ہو آل ہوگیارہ غیرے٦“-
٢۱ر ١2اپ
ظلال الترآن ۶۹ عور٤ الااپ - ۴۳
ملمافوں پر شید لات ال وت کآمیں جب دہ خندقی کے درانے پ مروف جنگ تھ ۔ ادع مو فریظہکی طرف سے شی آ ری تھی ںکہ دہ وعدہ خلانی بر مال ہو گے ہیں ۔اس لے ملمانو کو ہروت ہہ ڈر رہتا تھا کی وق ت گا رین کا لقکر خنر قکی جانب سے حلہ آدر ہو سنا سے اور چچیچہ سے یم ددی ہکرت ہیں اور وہ ان ”لیم انگکروں کے درمیان ایک قبل قد اویش ہیں - یہ لشکر آتے اس لے ہہ ںکہ ملمافو ںکوپ رین سے اکھا ڑپچھیگیں اور یہ مھرکہ مل کن اور آخریی مورک ہو- :
سے عالات ال کے علادہ تھ ۔ب ید ملا فقین مازشی کر رہے تھ اور الزایی یلا رہے تے خوداسلائی مخولں
میں بددلی یلا جارہی ی- و ا١ذٰیقُول المَفقُوٴن و الین فی قَلٰبهم مرض ما وعدتا الله و رسولہ الا
27
غحرورا )۱٢:۳۳( گن یارکرو دو وقت جب منافقین اور دو سب لوگ ججن کے ولوںٗ میں روگ تھا 'صافٰ صا ف کر رے ےک اللہ اور ال کے رعول* نے جو ومدے ہم سے کیے تھے ود فر یب کے سو اھ شہ تھے “۔ ان شدیھ حالات میں ان لوگو ںکوبھی وتع م لگ یاکہ دہ ٰپنے خث باطن کا امارکر ریس جج ملمان شدیدکرب میں جا تے اور کیچ من ہک وآ رہے تھے ۔ اریے حامات می سکو نہ تھا جو ا نکو طاص تک را ان لوگو یکو سلرانو لکی تین اور نیل اور لوک پھیلانے کا موقع م لگیا۔ اور انموں نے پر اکنا شرد عکر داکہ الد اور رسول کے ددرے جھوٹے تھے عالاکیہ اد اور رسولل کے وعرے و پورے ہونے والے تھ بے منافقین سہ بایں اس ل ےکرتے کہ الن حالات میس الن بے گرف تکرنے والاکوںی نہیں ہے کک کہ با برعالات ای تےکہ ا نکی بات درست معلوم ہوتی تھی دہ اپنے خیال ں ورست موقف پر تھے ۔ ملمان جن ہولتاک عالات سے دو ہار تے ال نکی وجہ سے ان مناغقین کے چنروں بر ایک جو مین پردہ تا جس کی وجہ سے دو رک رکھاؤکرئے تھے دوکھی اتہگیا۔ اور ان کے نفوس نے ا کو ال بے آنادہکر دیاکہ وہ اس ظا ہری روادار یکو بھی شت کر ہیں چناٹچہ انسوں نے اپنے عق شعو رکا اقمارکر دی در رکہ رکھاے کا یر د: چا گکر فان
اس حم کے منافین اور الذایں پھیلانے وانے پرجحاعت میں ہوتے ہیں اور مشکل عالات میں ان کا مو ف بھی اییا ہوا ہے جیساکہ ان کے بھائیوں کا موتف ہوا ہے ۔ یراس تم کے لوگ تام نطوں میں ای ک رر نمونہ ہوتے ہیں- زان و مکا نکی قیر کے ایراں شم کے لوگ برماعت میش ہوتے ہیں-
و اذقالب طائفة منھم یاھل یرب لامَقَامْ لَكمْفَارُحمُوْا(٣۴:٣٣) ٭جب ان می سے ای گر دونےکیا بے ادلی یب 'تمارے لیے اب ھرنے کاکوئی موتع نی ہے 'پٹ چاو“ ا سک یکیشش سے یککہ لوگ صف بند یکو تر ککر ک ےگھروں میں جیٹہ جائیں اود یہکمہ دی ںککہ خندقی کے مان اس طرح صف بت یکر ک ےکھے رے کاکیا موقع و٘ل ہے ۔ چچھ س ےگھرو ںکو خطرہ ہے مہ ایک ایی دعوت نشی جماں سے لوگ متاث ہو کت جےکدکہ عورتیں اور ہچ خطرے میں تھے ۔خطرہ تی تھا۔ خرف برطرف سے امن تھا ار عالات بھت ہی مخدوش
پادہ غر ٢٢
ئی لال القرآن 2 تو٤ الاطزاپ - ۳٣
تھے ۔کصی کا دل قرار نہ ڑا تھا۔
ویستأذن فرب منھم ابی بقوُوْنَ ان بیوتتاعوْرَةٌ )۱۳٣۳٣( جب ان کالیک فرقق م ےک ےکر می صلی ال علیہ رسلم سے اجازت ماگ ےکہ ہمار ےگ رخخارے میں ہیں “۔ یق ہمار ےگھر رشن کے سسانتتے کل ہیں اور ان کاکوی دفاع شیں ہے لین قران یہاں اصل حقیقت بھ کول دچاہے :
ومَاهی بعوَرة(٣۳ )٣ ”عالاکمہ دو خظرے میں نہ تھے “۔ پتانچہ یماں ساف صا فکم ریاجا ےک ڈول اکا چا ں اداں کے لیے ہہ جتھوٹے جی ےکھت ہیں۔
ادن ا فرارا )۱۳٣:۳۳( ” وراس دہ پھگمنا چاہے میں“ روایات میں ا ےکہ ئا حارث نے اوس لین قیل یکو رسول اڈ “کے پا بیالور یک ماک ہمار ےگھ خی رحفوطہ ہیں لور انصاریوں میں ےگ کاگم ہار ےےگھروں کی رح نمیں ہے ۔ ہمارے اور لففان کے رمیا ن کول نہیں سے جھ ا نکو روک گے.. ت آپ نمیں اجازت ہی کہ ہ مگھرد کی طرف لوٹ چائیں اک ہگھرول اور عورقول کی اط تکر خمیں حضورآنے ا نکو اہازت رے دی مہ بات سحد این معازتک کی فو اشموں نے مشورہ دیاکہ تضور ا نکو اعازت تہ دہ ںکیوکمہ میں اور ا کو جب بھ یکو مششکل پیش تی ہے 'انموں نے ایا کیا سے مداکی تم !چنانچہ مضورانے ا نکو ول بر ریا خرض قرآن ا نکو طام تکر ا ےککہ ىہ حنضل فرار اچ ہیں دو تے ہی ائےے۔ -س0٥٥0 ۔۔۔ بیاں سیا کلام تدرے رک جا ہے ۔ایک مین تضور پر غورکر نے کے لیے جس میں اس وت کے خو اک اور پر یشاندکن عالات اور باہم حلہ بازئی کے موق کی فصو ےکٹ یک یگئی ہے کہ ان بیار ولوں وانے منافقی نکی نضیاتی تھی بھی ددکھا دی جائۓ مہ ا نکی دافلی تقوب سے اور سے عالت ا نکی ال لے ہےککہ ان کا عقیدہ او رنظر یک زور ہے یہ جزول ہیں اور اسلا بی ممغخول سے ہہ لوگ لیک ممولی ہھانہ اور عذ رکی وجہ سے بھی بھانے کے لے تار ہوئۓ ہیں مکی موقف پر یمن والے نہیں ہیں اورنہ ہی سے اں حللے می سکوی رکھ رکھا وکرنے وانے ہیں۔
کو هُفْاتَ ا ن اَطايها تب شیلوا اليتے لاتوی 22 کلم 799227 مان
ےم
در ش کے اطراف سے دش یبس آآۓ ہوتے اور اس وقت انیس سک کی طرف دعوت دی جاتی قذىہ ال میں جا پڑت اور مشکل ہی سے انیس شریک فقہ ہونے می ںکوی تال ہو]“-
ىہ ہے الن منانقی نکی اندررولی تقھوی۔ رشن بھی وھ ینہ سے با رہ ۔ابھی ف دو شم کے اند رگن نیس ایا ۔گرچہ حالات بھت بی خوفیاک تھ لین ای تو علہ آور با ہری ڑے تھ ۔کوی خطرہ ابی اع نہ ہوا تما ار لگر پرینر کے
پادہ نر٢٢
ظلال الرآنِ ا۳۵ سور) الاطزاپ - ٣٣ اطراف سے ع لہ آور ہو جا اور پھر
سوا ات )۱٤٣:١٣( پھر نکو خی ےکی دموت دی جاتی شی ان سے مطال ہکیا جااکہ تم مود و جال ىہ لوگ فور | مد ہو جاتے اورہکتھ دب :کرت اور نہب یکول تر ووکرہ-
ال اتیک مجن اکر د کرت ق تھو ڑی ہی د یکرت یاان میں سے قئبل لوگ تر درکرتے ۔ثینی مجر ہونے سے یھ زی لی نے بے ہے نقشہ ڑعلے میرے اورنظربہکاہےم ےگریکتردری ہے اس کے مات می مقابلہ خی ںکر بت ۔
یوں قرآن ممید ا نکی عقیقت کا اقمارکرا ہے اور ا نکی اندرو یکیفیت سے پردہ اٹھا را اوراں کے بعد ان پ افزام نایا جا ےہ انموں نے عم وڈ دیا اور وعر ےکی غخلاف ور ز یکر دئی بے عم دس کے سا تھا؟ مہ عیر اتمول نے ای کے مات کیا ھاکہ بھاگیں ے یں لن کے ساجھھ مہ پل هبھی ہو چکا ہے ۔
لکن انا لوا ال2 می کل لا لن ال راہ کر ا وج ال عَھَد الله و مََْلان
ٹن لوکوں نے ان جچے ہے س ہبج “اور الہ سے کیے ہوتےا عم کی بازیری لو ہوٹی ہی خی“_
ا ا ا ا یہ لوگ بنوحار نے تھے یی فک نے جوا کے دن بھی جھاگنا چا تے اور ہو سلمہ اور ان دونوں نے واٹپی کا فی ہکر لیا تھا۔ لکن بعد میں ان ول نے ار کے ساعھ عم کر لیا تھاکہ دہ ایا ہرز کی گے ۔ یہاں باد دبا کرای اتی ہےکہ تم نے خودہ عمد ال کے مات کیا تھاکہ آعندہ ایند زین گے
اعد کے ان فو ان کے فشل وکرم سے وہ پچ گے تھے ۔ ایر نے ال نکو ایت قلد بی رے دی شی ۔ اور ا نکو فرار کے تا سے بپچا لیا تھا۔ ای ال زمانے میں جمار کے اسباق میں سے مہ ایک سیق تا ین تج ت تریک اسلابی پہ طویل دورگزر میا ہے ۔کانی قزیت ہوگے ہیں ۔ اس لے قرآ نکریم ان پہ سی خت تب روک را -
آج جب انسوں نے عمد فڑ را ۔آج دہ خخارے سے رپے کے لیے اور خو فکی عالت سے بھانے کے لیے عر لو ڑ گے و قرآا نکر ا نکو جانا ہے اور ہردقت جچاا ہ کہ اسلائی رہہ حیات میں اع قد رکیا ہے اور اسلا می تصورحیات مس مموت اور زیمت کاتصو رکیا ہے کیا فرار اور نقس عمدر زنگی کاضامن سے ؟
ا 206 سے سراے ٥نا لا صَُكَموْنَ الا فَِيلّاث ٹل من کا الزی مَمِْكزتن او رت
پادہ غر۲۱